میں زندگی ہوں

An elder man sitting on a bench in a garden. The image is generated by Gemini AI

مجھ سے کہنے لگی میں آپ کو پسند کرتی ہوں ۔ میں نے کہا پگلی خواہشیں بدل جاتی ہیں تم نویں جماعت کی طالب علم ہو، کچھ عرصہ بعد سکول سے نکلو گی تو تمہیں بہت سے اور چہرے نظر آئیں گے۔ تمہارا دائرہ وسیع ہوتا جاۓ گا ۔ تم اچھے کو زیادہ اچھے سے ملانا شروع کرو گی اور پھر ظاہر سی بات ہے کہ زیادہ اچھے کو ہی چنو گی ۔ تمہاری دنیا ابھی محدود ہے ابھی یہ پسند ، نا پسند کے جھنجھٹ میں نہ پڑو۔

وہ کہنے لگی کل کس نے دیکھی ہے ، تم نہیں جانتے کہ میں تمہیں کس حد تک پسند کرتی ہوں ، تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ، باتیں کرنا چاہتی ہوں ۔ ساری زندگی کے سارے کام ایک طرف رکھ کہ صرف تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں ۔ تم مجھے اپنا بنا لو۔ میں کہنے لگا ارے پگلی ابھی مجھے تھوڑی سی دنیا دکھائی دی ہے اور میں اپنے آپ کو کیسے تمہیں سونپ دوں؟ میں نے تو سوچا تھا جسے میں پسند کروں گا میں اسے حاصل کرنے میں عمر بھر کوشش کروں گا ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم اچانک میرے سے بات کرو اور مجھے مجھ سے مانگ کر اپنا کرلو اور میں بغیر اپنی پسند نا پسند کے چکر میں پڑے کیسے تمہیں تمہاری پسند اتنی آسانی سے سونپ دوں؟

وہ رونے لگی، اکثر روتی تھی۔ مجھے محبت تو نہ ہو سکی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہمدردی ضرور ہونے لگی۔ لیکن اس ہمدردی کی بھیک کو وہ ہر گز قبول نہیں کرتی تھی۔ اسے میں پورا کا پورا چاہیے تھا ۔ جس کے ذہن کو وہ اپنے قابو میں رکھے اور جس کی سوچ پر کوئی دوسری سوار نہ ہو۔ اس نے میری پسند میں ڈھلنے کے لیے سب کچھ کیا۔ وہ بالکل عام سی ہوگئی ۔ اسے معلوم ہوا کہ اسے سادگی پسند ہے ۔ وہ سادگی میں ڈھل گئی ۔ کبھی اسے محسوس ہوا کہ اب اتنے سال ہوگئے اب اس کا ذہن تھوڑا شوخ پن کا شوقین ہوگیا تو وہ سادگی اور شوخ پن میں ایسا توازن قائم کر بیٹھی کہ مجھے وہ اچھی لگنے لگی۔ میں نے دل میں اس کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ یہ سوچنا شروع کردیا کہ تصور میں تو وہ میری ہے اب اسے حقیقت میں اپنا نام کیسے دوں۔ جو رکاوٹیں کھڑی کرسکتے تھے ان سب کو منانا شروع کردیا۔

اس کی تو خواہش تھی ہی کہ وہ میری ہو جائے لیکن اب یہ خواہش اس کی مستقل مزاجی نے میرے اندر بھی پیدا کردی تھی۔ میں اسے پانے کی جستجو میں کئی بار ایسے لوگوں کے سامنے بھی اپنی انا قربان کر بیٹھا جن سے میں کبھی ہاتھ ملانے کا خیال بھی نہ کرتا تھا۔ آخرکار مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں بھی اسی ریل گاڑی کا مسافر ہوں جو باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتے ہیں لیکن اپنی محبت ، اور خواہش کو حاصل کرنے کی جستجو میں سب باتیں ، خود سے کیے وعدے بھول جاتے ہیں ۔ یہ خیال کبھی زور پکڑتا لیکن اب انا اتنی بار اسے حاصل کرنے کی کوشش میں قربان ہو چکی تھی کہ اب یہ خیال حاوی نہیں ہو پاتا تھا اور بالآخر میں نے ہتھیار ڈال دیے اور اسے کہہ دیا کہ مجھے اس سے بے پناہ محبت ہے اب میرا اس کے بغیر جی نہیں لگتا ۔ اب اسے میری ہونا ہوگا اور مجھے اس کا۔

اب ان سب باتوں کا ذکر اس کے سامنے کرنے کے بعد میں اسی انتظار میں تھا کہ وہ کب میرے گلے سے لگ کر رو دے گی اور کہے گی ہاں!!!

میں تمہاری ہوں

اس کا دل تو چاہا ہوگا کہ وہ یہ سب کرے لیکن وہ یہ کر نہ سکی اور اس کے ہونٹ حرکت میں آۓ اور کہنے لگی۔

نہیں! اب میں یہ نہیں چاہتی۔ اب میری کوئی خواہش نہیں کہ میں تمہاری زندگی کا حصہ بنوں۔ جب تھی تب تم کتابی باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے میں کسی بھی ناجائز تعلق میں نہیں باندھ سکتا خود کو۔ اب یہ ظاہری نام دینے سے کیا ہوگا؟ رہے گا تو ناجائز ہی۔ تم رہو کتابوں میں ۔ میں چلی، ایک اور نوجوان ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ، لیکن مجھت معلوم ہے کہ تم بھی یہی کہتے تھے اور اب تم مان گئے ہو لیکن اب میں تمہاری نہیں ہوسکتی ، کیونکہ تمہاری ہوکر مجھے کیا ملے گا ؟ تم آخری سانسیں لے رہے ہو؟ تم مر جاؤ گے کچھ روز میں اور میں تمہارے نام کا اچار ڈالوں گی؟

مجھے تو اب اس نوجوان کا نام چاہیے جو کہ تمہاری جوانی کی طرح میری بات نہیں مانے گا اور نام نہیں دے گا، لیکن میں اسے اپنی عادت ڈال کر باقی اس کی زندگی اسی کوشش میں گزارنے پر مجبور کردوں گی کہ وہ مجھے حاصل کرسکے اور جب وہ میرے پاس نام لے کر آئے گا تو میں اسے بھی ایسے ہی دھتکاروں گی جیسے تمہیں اب دھتکارا۔

میں کسی کی بھی ہونا نہیں چاہتی۔ میں بس ایک ایسی کشش ہوں جس کو نوجوان کتابی دنوں میں رہتے ہوئے کبھی قبول نہیں کرتے لیکن میں مستقل مزاجی سے دستک دیتی رہتی ہوں اور ان کے دل میں جگہ بنا لیتی اور پھر انہیں ان کی کتابی دنیا اور حقیقی دنیا کے مقصد سے نکال کر صرف اپنی خوبصورتی کا دیوانہ بنا دیتی ہوں۔

تم مجھے بے حیا سمجھو یا بازاری مجھے فرق نہیں پڑتا ۔ جاؤ اپنا کام کرو جو بونس سال ہیں زندگی کے 60 سے اوپر وہ گزارو، مسجدوں میں۔ سمجھاؤ ان نوجوانوں کو جن کے پاس میں جارہی ہوں کہ میرے جھانسے میں مت آنا۔ اب تمہاری اپنی زندگی اسی کوشش میں گزری ہے کہ تمہارا اور میرا نام جڑ سکے تو تم جیسے کی بات کون مانے گا؟

سب کہیں گے یہ خود بھی اسی حسینا کا عاشق تھا اب ہمیں درس دے رہا۔ جاؤ جاکے آخری سانسیں لو اور جاؤ مٹی میں ۔ میں تمہاری کبھی نہیں ہوسکتی۔

اور سنو! میں بازاری ہوں ، میں چیخ کر کہتی ہوں میں بازاری ہوں۔ لیکن کوئی بھی نہیں مانے گا کیونکہ میرے پاس حسن ہے، کشش ہے ، اسی حسن اور کشش نے تمہیں چالیس سال اپنے قابو میں رکھا اب جاؤ جا کے مرنے کا انتظر کرو۔ تم نے ساری عمر مجھے چاہا لیکن کبھی میرا نام نہیں پوچھا ؟ میں نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا کون ہو تم؟

کہنے لگی میں زندگی ہوں۔میرے پیچھے زندگی گزار دی، اسی زندگی کی دولت کے پیچھے، اسی زندگی کی آسائشوں کے پیچھے پڑے رہے مگر مجھے اس قدر بے وفا زندگی کو نہ پہچان سکے کہ میں کسی کی نہیں ؟

دوسری کہانیوں کے لیے یہاں “اردو کہانیاں” پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *