میں دوست کا فون پچھلے کوئی تین گھنٹوں سے سن رہا تھا اور اکثر اوقات میں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ میں زیادہ سے زیادہ کسی سے فون پر ایک منٹ بات کرسکتا ہوں ۔ خیر اس دوست سے فون پر اس طویل گفتگو کی وجہ یہ ہے کہ شاید یہ واقعی دوست ہے ۔ وقت کا یہ اصول ہے کہ جب یہ کروٹ لیتا ہے تو بہت سے پیارے لوگوں کو کروٹ کی دوسری جانب لے جاتا ہے اور پھر کبھی کبھار وقت کروٹ بدلتا ہے تو وہ پیارے لوگ جن سے ملنے کی خواہش کے درمیان وقت کی کروٹ آ بیٹھی تھی وہ دوبارہ اپنے سامنے ہم دیکھتے ہیں ۔ ایسے مواقع کافی عرصے کے بعد ہماری زندگی میں آتے ہیں اور ان مواقعوں کے بیچ ہماری زندگیوں کی بہت سی شامیں ڈھل چکی ہوتی ہیں ۔ وقت کی اس کروٹ پر انسان سوچتا ہے کہ جو جو بیتی ہے وہ اسی ایک خوبصورت لمحے میں اپنے پیارے دوست کو سنا دے اور اس کی سن بھی لے۔
تو فون پر اس تین گھنٹوں سے زائد گفتگو کی وجہ کچھ اسی طرح کی تھی۔ خیر پھر ہم بات کر رہے تھے کہ مجھے محسوس ہوا کہ باہر ہوا کی وجہ سے کھڑکی کے پردے زور زور سے اڑنے لگے ہیں ۔ سردیاں اختتام کی جانب ہیں اور گرمیوں کی آمد آمد ہے ۔ البتہ ابھی گیزر بند نہیں کیا ہے اور کچھ حد تک گرم کمبل کا استعمال بھی کر رہے ہیں ۔ رمضان المبارک کے دو روزے افطار کرچکے ہیں اور سننے میں آیا ہے کہ ایک روزہ ہم ثواب کی نیت سے پہلے ہی ہزم کرچکے اور خبریں گردش کررہی ہیں کہ روزے تیس نہیں بلکہ انتیس ہوں گے ۔ خیر یہ ہوا کا کھڑکیوں سے ٹکرانا عموماً بارش کی طرف اشارہ لگتا ہے اور لگ رہا ہے کہ ہلکی بارش شروع ہوچکی ہے ۔ تو ایسے موسم میں مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو سنبھال کر رکھتی ہیں کہ جاتی سردی اکثر لگ جاتی اور ساتھ مائیں گرم کپڑے بھی سمیٹنا شروع کر دیتی ہیں ۔ اس عمل کو ماؤں کی کنفیوژن کہا جاسکتا ہے ۔
خیر میں اس موسم میں اپنے کمرے میں بند دروازے میں بیٹھا اس وقت کی کروٹ کو سمجھنے میں مصروف ہوں کہ آخر یہ وقت کی کروٹ پیاروں میں سرحد کا کام کیوں کرتی ہے ۔ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ جس کروٹ آپ کا دوست یا کوئی پیارا جاۓ تو اسی کروٹ آپ بھی چلے جاؤ ۔ کروٹیں اکثر جدائی کا سامان کیوں لے کر آتی۔ اس کا جواب مجھے کوئی خاص مل نہیں رہا تھا کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ میرے بچپن میں کچھ دوست تھے جن سے میری اچھی دوستی تھی پھر میں چھوٹی عمر میں گاؤں سے شہر اگیا تو ان سے رابطہ نہ رہا۔اور گاؤں سے شہر آتے وقت دل بہت رنجیدہ تھا کہ اب دوست نہیں ملیں گے ۔وقت گزرتا رہا۔ پھر زندگی میں موبائل آیا تو جیسے تیسے کرکے ان سے دوبارہ رابطے بحال ہوۓ۔ اب ہماری جو عمر ہے یہ کام دھندے اور ذمہ داری اٹھانے کی عمر ہے ۔ ہمیں بہت سے لوگوں سے جو دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھتے واسطہ رکھنا پڑتا۔
اب مجھے کسی نے کہا کہ مجھے سمندری کے ڈگری کالج کے بارے میں کچھ معلومات چاہیے تو میرے ذہن میں آیا کہ ہاں وہ شانی اسی کالج سے پڑھا اس کو فون کر کے پوچھتا ہوں ۔ ایک دن وہاں سے کسی کا فون آیا کہ ہمارا فلاں مریض بیمار ہے اسے فیصل آباد فلاں ڈاکٹر سے چیک کروانا تو حنظلہ محمود اس ڈاکٹر کا معلوم کرو کہ کب اور کہاں بیٹھتا۔ مجھے لاہور جانا تھا تو راستے کا معلوم نہیں تھا پھر یاد آیا کہ میرا ایک دوست جو چھٹی کلاس میں بغیر بتائے سکول چھوڑ کر چلا گیا تھا اس کے ساتھ میرا سات سالوں بعد دوبارہ رابطہ ہوا تو وہ لاہور ہی تو ہے وہ بتا دے گا۔ سننے میں آیا کہ گاؤں میں ایک اکیلی عورت تھی اس کا بیٹا فیصل آباد کچہری میں لگا ہوا تو اس کو اپنے دادا کا حوالہ دے کر کچھ قانونی رہنمائی لی جاسکتی ۔
میں بہاولنگر جو کہ یہاں سے میلوں دور ہے وہاں کسی سے فون پر کوئی چیز خریدنے لگا تو معلوم ہوا کہ اس کا فیصل آباد زرعی یونیورسٹی میں کوئی دوست پڑھتا ہے اور وہ میرے دوست کا بھی دوست ہے تو رقم کی ادائیگی میں اس کی ضمانت کام آگئی ۔ ایسی اور بہت سی مثالیں ہیں جہاں آپ کو وقت کی کروٹ کی وجہ سے جدا ہوئے دوست اور پیارے ملتے ہیں یا ان پیاروں کی وجہ سے کوئی ثالث ملتا ہے جو آپ کی پریشانی کا حل بتا سکتا ہے ، کوئی آپ کی رہنمائی کرسکتا کوئی راستہ دکھا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم کو میں اپنی عقل سے سمجھنے سے تو قاصر ہوں مگر میرا یہ ایک ادنیٰ سا اندازہ ہے کہ شاید وقت کی کروٹ جو ہمیں بہت سے پیاروں سے دور کردیتی ہے اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اس کروٹ کی وجہ سے جدا ہونے والا شخص دنیا کے اس کونے میں آپ کو ملے جہاں آپ کو کسی اپنے کی امید ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے پیاروں کو اس دنیا میں اسی طرح تقسیم کرتا ہے کہ وہ لوگ وہاں وہاں ہماری رہنمائی کریں جہاں ہم اپنے آپ کو پردیسی یا مسافر تصور کرتے ہوں۔ اس تقسیم کا حقیقی علم تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی جانتی ہے مگر وقت کی اس کروٹ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیاروں کو اکٹھا ہی رکھتا ہے، بس وقتی طور پر انسان سمجھ نہیں پاتا کہ یہ میرا اتنا پیارا دوست تھا یہ گاؤں چھوڑ کر کراچی کیوں چلا گیا ۔
دوسری کہانیوں کے لیے یہاں “اردو کہانیاں” پر کلک کریں۔