اگر ہم معاشرے کی تشکیل کی ںات کریں تو معاشرہ مرد اور عورت کا مجموعہ ہے ۔ یہ مرد آگے پھر باپ، بیٹا، بھائی ، ڈاکٹر ، انجینئر اور اسی طرح کے مختلف رولز میں پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح عورت ماں، بہن، بیٹی ، نرس،، استانی اور کچھ دوسرے روپ میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔ ہمارے ہاں جینڈر ڈومینینس کا رواج عام ہے یعنی عورت کوشش کرتی ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں آجائیں اور مرد کوشش کرتے ہیں کہ عورتیں ان کے زیرِ اثر رہیں ۔ اس چپقلش کی وجوہات ٹٹولی جائیں تو ہر بندہ اپنی اپنی وجوہات پیش کرتا ہے ۔ انسان کا عام ذہن بھی اکثر اس کنفیوژن کا شکار رہتا ہے کہ شاید عورتیں مظلوم ہیں ۔ مطلب کہ عورت کی گواہی کو مکمل گواہی تسلیم نہیں کیا جاتا اور کچھ ایسے ہی بہت سے دوسرے معاملات ۔
مردوں میں ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ کیونکہ ہم خاندانوں کے نمائندے ہیں ۔ ہم کما کر لاتے ہیں تو ہمارا حق یا کنٹرول زیادہ ہے ۔ یہاں آپ سوچ سکتے ہیں کہ عورتیں بھی تو کام کرتی ہیں لیکن میرا مطلب ہے کہ جو عام طور پر کمائی کا ذمہ ہے وہ مردوں پر ہے اور کسی حد تک ابھی عورتوں کے کام کا رواج اسلامی ریاستوں میں کم ہے ۔ تو اس وجہ سے مرد اکثر کمائی کو اپنے ساتھ ہی منسوب کرتے ہیں ۔ اس کشمکش میں ہر صاحب سوچ ذہن مبتلا ہوتا ہوگا کہ جب ہمارے دین میں سب برابر ہیں تو یہ آدھی گواہی اور بغیر مجبوری کے عورت کو خودمختار ہوکر کام کرنےکی ممانعت ، دین اسلام میں کیوں ہے ۔
اچھا اب اگر آپ تھوڑا سا ذہن دوسری طرف لے کر جائیں ۔ آپ مردوں کی اس چیز کو عام طور پر پابندی کے طور پر دیکھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو کام کرنے سے منع کرتے ہیں مگر اگر آپ ایک مثال لیں کہ والدین میں سے کوئی آپ سے چیز مانگے کوئی یا آپ کو بلاۓ تو آپ ان کو یہی کہتے نا کہ جی آیا۔ یہ تو نہیں کہتے کہ آپ خود لے لیں یا خود آجائیں ؟ تو اس کے پیچھے وجہ کیا ہے ؟ میرے نزدیک اس کے پیچھے بڑی وجہ احترام ہے ۔ اگر آپ والدین کے کچھ مانگنے پر ان کو خود لینے کا کہیں گے تو یہ ان کی توہین ہے ۔
اگر آپ کے پاس کوئی قیمتی چیز ہو جیسے ہیرے ہوں یا سونا تو کیا آپ اسے مین گیٹ پر لٹکانا پسند کریں گے ؟ ہرگز نہیں ۔ ہم سب کے دل میں ایک ہی خیال آۓ گا کہ یہ قیمتی چیز ہے اسے چھپا کر رکھا جائے ، باہر چمکائیں گے تو کوئی بھی لے جاۓ گا ۔دوستوں میں ایک دن بیٹھا تھا تو یہی بات ہورہی تھی کہ مرد اور عورت برابر ہیں مگر پھر یہ تفریق کیوں نظر اتی یعنی آدھی گواہی اور کام کی ممانعت ۔ سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے ۔ ایک دوست نے راۓ دی کہ یہ سو فیصد درست ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں ۔ یہ جو سوال ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں کہ شاید مرد زیادہ افضل ہے تو ایسا نہیں ہے ۔ اس کی دلیل اس نے یہ پیش کی کہ جیسے عورت کی گواہی کو آدھا کہا گیا تو وہی جنت جیسی عظیم چیز کو ماں کے قدموں کے نیچے کہا گیا۔ اگر مرد کو گھر کا سربراہ کہا گیا تو عورتوں کو اللہ تعالیٰ کی امانت کہا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب آپ نے دونوں مرد اور عورت کا موازنہ کرنا ہے تو آپ پر لازم ہے کہ آپ زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالیں ۔ ہر جگہ دونوں کو کمپیئر کریں ۔ جب آپ ہر جگہ دونوں کو کمپیئر کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کسی جگہ مرد افضل اور کسی جگہ عورت ۔ ان سب پہلوؤں کو اکٹھا کریں گے تو فضیلت مردوں اور عورتوں میں یکساں تقسیم ہوتی دکھائی دے گی۔
پھر پوچھا کہ عورت کو کام کرنے سے منع کیوں کیا جاتا ، خاص طور پر ایک اسلامی معاشرے میں ۔ تو اس پر ایک راۓ جو مجھے سمجھ آئی وہ یہی تھی کہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ کماۓ اور عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کو سنبھالے۔ تو مردوں کا منع کرنا اس لیے سمجھ میں آتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ماں باپ کو کسی چیز مانگنے پر خود لینے کا مشورہ دینا ان کی توہین ہے تو اسی طرح عورت کو کام کے لیے کہنا اس کے احترام میں کمی لانے کے مترادف ہے ۔ جس طرح سونے کو قیمتی سمجھ کر چھپا کر رکھا جاتا،اسی طرح عورت کو گھر رہنے کا حکم بھی اسی وجہ سے ہے کہ وہ قیمتی ہے اور قیمتی چیز سرعام پڑی ہو تو یہ اس کی بے قدری ہے ۔
براۓ مہربانی یہ میری رائے ہے کوئی حتمی چیز نہیں ۔ جہاں عورت کو گھر تک محدود کیا گیا وہاں مجبوری کے وقت ہمارے دین کے احکام مختلف ہیں ۔
دوسری کہانیوں کے لیے یہاں “اردو کہانیاں” پر کلک کریں۔