فیصل آباد کی غلہ منڈی اب تو محدود ہو چکی ہے مگر جب اس کی حدود کی کوئی نشان دہی نہ تھی تو جنگ روڈ سے پہلے تک اسے منڈی ہی کا حصہ سمجھا جاتا تھا ۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اس وقت کالج تک محدود تھی ۔ پھر کاروبار کے مرکز یعنی غلہ منڈی کو محدود کردیا گیا اور گورنمنٹ کالج کی حدود بڑھا دی گئیں ، جو کہ اب یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے ۔ یہاں اب بہت سے طالب علم فخر سے تعلیم حاصل کرکے نوکری کی تلاش میں محدود غلہ منڈی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ خیر غلہ منڈی کی حدود کا جی سی یونیورسٹی کی حدود کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں مگر ویسے ہی گزرتے ہوئے خیال آیا کہ ایک طرف اتنی بڑی درسگاہ ہے جی سی اور دوسری طرف کروڑوں کی سرمایہ کاری سمیٹے ہوئے غلہ منڈی ۔
خیال جو آیا اس کی کوئی خاص سمجھ نہیں آئی مگر وہ کچھ یوں تھا کہ یہاں سے طلباء تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر صرف روڈ کراس کرکے غلہ منڈی کا دروازہ کھٹکھٹاتے تو کسی کو دوسرے شہر، دوسرے ملک روزگار کے لیے نہ جانا پڑتا۔ آخر ایسی کیا چیز ہے جو ہمیں سرحدیں عبور کرنے کی ہمت تو دیتی ہے مگر روڈ کراس کرنے کی ہمت نہیں دیتی۔ اسی کشمکش میں کھڑا گاڑی کا انتظار کر رہا تھا کہ یاد آیا کہ اس بار بجلی کا بل ادا نہیں کیا ابھی تک ۔ سوچا کچھ روز تک کردوں گا، پھر خیال آیا کہ گھر کے واٹر پمپ کا بوربیٹھ چکا ہے اور پانی پمپ کی پہنچ سے دور نیچے جا چکا ہے ۔ اسی خیال کہ ساتھ یہ بھی حیرانی ہوئی کہ بارش کی ایک بوند سے پانی سڑکوں پر ایسے پہنچتا ہے جیسے اینٹ کے نیچے ہو۔ پھر سوچا کہ ہم تو سچ صاف پانی پیتے ہیں ۔ اسی صاف پانی سے یاد آیا کہ جو آدمی روز پانی کا کین بھر کے جاتا ہے اس کو بھی پیسے دینے ہیں ۔ اسی خیال میں تھا کہ پیٹ خالی خالی محسوس ہوا، ناشتہ کرنے کا سوچا تو آٹے ، دال، چینی کے بھاؤ ذہن میں گھومنے لگے ۔ سوچا تنخواہ پر سب کروں گا۔ ذہن میں کل تنخواہ میں سے سارے خرچے مائنس کر رہا تھا کہ حساب میں غلطی محسوس ہوئی ۔ تصوراتی حساب کتاب میں میرے پاس مہینے کے آخر میں دو ہزار بچ رہے تھے ۔
میرے مطابق یہ حساب غلط تھا کیونکہ بچنے کی بجائے ادھار لینے کی ضرورت اکثر پیش آتی ہے تو یہ حساب ہضم نہیں ہوا۔ تسلی کے لیے موبائل نکالا تو گھر سے کچھ ادویات کی لسٹ میسج پر موصول ہو چکی تھی ۔ اس کے بعد سوچا کہ ابھی تنخواہ میں ہفتہ پڑا ہے تو اسی خوش فہمی میں گزار دیتے ہیں کہ اس مہینے دو ہزار کی بچت ہوگی۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اچانک وہی سوال یاد آیا کہ جی سی یونیورسٹی کے طالب علم سڑک کراس کیوں نہیں کرتے ؟ اس مرتبہ اس سوال نے حیران نہیں کیا تھا کیونکہ میں پچھلے بیس منٹ سے ضروریات کے بلبلے میں کافی گول چکر لگا چکا تھا ۔
شاید یہی پانی کا بلبلہ ہے جو میرے جیسے ہزاروں نوجوانوں کو جی سی یونیورسٹی کا روڈ کراس کرنے نہیں دیتا۔ ہمارے معاشرے میں آئیڈیا ، موقع ، انوویشن سب کو اسی خیال سے ڈرایا گیا ہے کہ جی سی یونیورسٹی کا روڈ کراس کرنے کی کوشش کی تو گوجرہ سے آنے والی شبیر سنز کی تیز رفتار بس کچل ڈالے گی۔ اس بس کے نیچے آنے کے بعد آئیڈیا ، انوویشن کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ یہ صبح ہزاروں افراد کو فیصل آباد اتارتی ہے ۔ یہ ہزاروں افراد لاکھوں ذمہ داریوں کے بلبلے کا وزن کاندھے پر اٹھائے جی سی یونیورسٹی کے پاس سے گزرتے ہیں ۔ اب اتنا وزن ایک معصوم آئیڈیا کے اوپر سے گزرے گا تو موت تو ہوگی۔
دوسری کہانیوں کے لیے یہاں “اردو کہانیاں” پر کلک کریں۔