کراچی بریانی کا راز

Image is owned by the writer of this post. The image is of Karachi biryani.

یہ 2011 کی بات ہے۔ گیارہ سالہ لڑکا عموماً ہر روز دوپہر ایک بجے تندور سے روٹیاں لینے کے لیے گھر سے نکلتا۔ تندور پر روٹی لگوانے کے لیے رش تو کافی ہوتا تھا، منچھی لڑکے کو دیکھ کر آواز لگاتا کہ حاجی صاحب کے لڑکے کی روٹیاں پہلے لگا دو۔ لڑکے نے نیا نیا کتابوں میں پڑھا تھا کہ سفارش کوئی عزت ومرتبہ میں اضافے کا باعث نہیں تو وہ منچھی کی آواز پر سر ہلاتے ہوئے کہتا کہ کوئی بات نہیں میں کھڑا ہوں اپنی باری پر روٹیاں لوں گا۔ روٹیاں لگانے والے مختلف لوگ تھے، کبھی کوئی ہوتا کبھی کوئی ۔ مشہور صرف دو تھے، نام تو نہیں معلوم لیکن ایک کو استاد کینٹی (گھنٹی) اور دوسرے کو ہیرو کہ کر بلایا جاتا تھا۔ استاد کینٹی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ روٹی لگاتے وقت اپنے ناخنوں سے روٹی میں سوراخ کر دیتے تھے اور یہ گیارہ سالہ لڑکے کو ان کا یہ عمل محبت ظاہر کرنے کا ایک طریقہ لگتا تھا اور وہ خاص طور پر کہتا کہ استاد جی ڈیزائن والی روٹی ۔

خیر استاد کینٹی تو ایک شہزادہ تھا ہی ہر وقت بولتے رہنا ، ہر آتے جاتے کو بلانا، لیکن ہیرو بہت کم بولتا تھا ۔ زیادہ تر اس کی زبان پر جو الفاظ ہوتے وہ یہ ہی ہوتے کہ کینیا؟ لے لو بس اس سے زیادہ وہ نہیں بولتا تھا ۔ وہ قریب کوئی بیس اکیس سال کا لڑکا، جس کا رنگ سانولا تھا مگر ادائیں بالکل ہیرو کی طرح تھی، بالوں کا سٹائل ، ہر وقت بالوں کا ایک جگہ بنے رہنا، اور اس کا دبلا پتلا سا جسم۔ شاید یہ چیزیں کافی تھی کہ وہ ہیرو کہلایا جاۓ۔ ہیرو کا لفظ سن کر آپ کے ذہن میں شور و غل ، ڈانس مستی جیسی چیزیں آتی ہوں گی لیکن ان میں سے کوئی بھی خاصیت اس کی شخصیت کا خاصہ نہیں تھیں ۔ وہ سگریٹ پیتا تھا اور چائنہ کے موبائل پر اونچی آواز میں عطا اللہ کے گانے سنا کرتا تھا ۔ سنجیدہ اتنا تھا کہ زبان سے کبھی گانے کے بول بھی نہ دہراۓ ہوں ۔ گیارہ سالہ لڑکا اسے سگریٹ پیتا دیکھتا تو پوچھا کہ یہ چھوڑ بھی سکتے ہیں ؟ ہیرو اس دن شاید لڑکے کے معصومانہ سوال پر پہلی بار ہی مسکرایا ہو کہنے لگا چھوٹ سکتی ہے سرجی ، میں تو ویسے نہیں چھوڑتا مگر تم کبھی نہ پینا اور نہ کبھی اپنا راز کسی کو بتانا، ورنہ تم ہر چوک پر اپنے راز کا اشتہار دیکھو گے۔ لڑکے کو سگریٹ والی بات تو سمجھ آگئی لیکن راز والی نہ آئی۔ اس عمر میں یہ بات اس کے سمجھنے کی تھی بھی نہیں ۔

وقت بدلا، دن رات میں ڈھلا، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں اب گیارہ سالہ لڑکا کافی بڑا ہوچکا تھا۔ لاہور میں ایک جگہ کراچی بریانی کھانے کا موقع ملا، پھر وہی بریانی اس نے فیصل آباد کے کئی علاقوں میں کھائی ۔ نام اور ذائقہ وہی تھا جو پہلی بار کھانے پر تھا۔ لڑکا ان سب کو ایک ہی بندے کی شاخیں سمجھتا تھا کہ ایک آدمی نے کراچی بریانی شروع کی اور پھر ہر شہر میں اس کی بہت سی شاخیں کھولی، جیسے آپ کسی بھی فوڈ پوائنٹ کی دیکھتے ہیں ۔ ایک دن لڑکے نے بریانی کھاتے ہوئے دکان کی دیوار پر لگا اشتہار دیکھا کہ ہماری کوئی اور شاخ نہیں ہے۔ لڑکا جہ دیکھ کر حیران ہوگیا اور سوچ وچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ، اگر یہ کراچی بریانی جو اصل کراچی بریانی ہے اس کی شاخ نہیں تو عین ممکن ہے کہ یہ ریسیپی لیک کا چکر ہو۔ جس نے بریانی پہلی بار بنائی اس نے کسی دوست کو بتائی اس نے آگے بتائی اور کسی کاروباری ذہن نے اس کو کاروبار بنا لیا۔ اب اس بات سے لڑکے کو بریانی کھاتے ہوئے ہیرو کی بات یاد آئی کہ بندہ راز کسی کو نہ بتاۓ، اگر بتاۓ گا تو وہ راز ہر چوک چوراہے پر لکھا ہوا سب کو دکھائی دے گا، جیسے اب ہر جگہ کراچی بریانی دکھائی دیتی ہے ۔ ہیرو ناجانے اب کہاں ہے لیکن وہ میرا استاد ہے، استاد کی بات مجھے پندرہ سال بعد سمجھ آئی ۔ جہاں بھی ہو اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے آمین ۔

دوسری کہانیوں کے لیے یہاں “اردو کہانیاں” پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *