آج آپ کو میں ملواؤں گا ایک ننھے مفتی سے۔ اتنا پہنچا ہوا مسلمان نہیں ہوں مگر جمعہ تو پڑھتا ہی ہوں۔ آپ نے سنا ہوگا فلاں بچے نے ستنی کم عمر میں حفظ کرلیا، فلاں نے چند ماہ میں ۔ ایسی بہت سی خبریں ہم سنتے ہیں ۔ عموماً میں بہت بڑی بڑی چیزوں کا خیال نہیں کرتا ہاں مگر چھوٹی چھوٹی باتیں ذہن میں بٹھا کر رکھنے کا عادی ہوں ۔
اکثر میں جمعہ اس مسجد میں پڑھتا جہاں سب سے پہلے ہوتا ہو۔ گھر ہوں تو ہماری کالونی میں جو سب سے پہلے جمعہ ہوتا وہ تقریباً 1:30 پر ہوتا۔ میں تقریباً 1:32 پر رکوع میں جا کر جماعت کے ساتھ شامل ہوتا اور دعا بھی مولانا صاحب کے سپرد کر آتا۔
اکثر مسجدوں میں پیسے اکٹھے کیے جاتے، کچھ جگہ پر کمیٹی بنی ہوتی۔ میں جہاں جاتا وہاں بھی جمعہ کے بعد وہ ایک لڑکا پیسے اکٹھے کرتا۔ سب کی جتنی توفیق اتنے دے دیتے۔ عموماً بچے جو بالکل چھوٹے ہوتے نماز کے لیے آتے ان کو شرارتوں کے علاوہ کام نہیں۔ اب ایک چھ سے سات یا دس سال کا بھی بچہ اس کے سامنے سے پیسے اکٹھے کرنے والا کپڑا جسے آپ جھولی سمجھ لیں ، گزارا جاۓ تو وہ پیسے دینے کی بجائے اس میں سے اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ اکثر بچے کرتے بھی ہیں پھر کوئی میرے جیسا ساتھ بیٹھا جس نے ساری زندگی دوسروں کے جائز حقوق کھاۓ اور بہت سوں کے پیسے ادھار کے نام پر دباۓ، وہ غیرت میں آکر چند سال کے بچوں کو آنکھیں دکھاتا ہے کہ یہ پیسے نہیں اٹھاتے اور بچہ تو معصوم ہے وہ میرے جیسے لوگوں کی آنکھوں سے ڈر کر معصومیت سے گھبراتے ہوئے ہاتھ پیچھے کرلیتا۔
عموماً بچوں سے ایسی ہی حرکتوں کی امید کی جاسکتی کہ وہ پیسے دینے کی بجائے مسجد کے پیسے بھی لے کر سلانٹی کھا لیں۔ایک بچہ جو کہ بظاہر ایک سپیشل بچہ لگتا تھا۔ اس کو کوئی پیدائشی طور پر بیماری ہوگی۔ کوئی دماغی کمزوری۔ کچھ آنکھوں میں بھی تکلیف دکھائی دیتی تھی۔ آنکھوں کی بناوٹ بھی نارمل انسان کی طرح نہیں تھی ۔
ہر جمعہ وہ اسی مسجد میں پڑھتا جہاں میں پڑھتا ہوں۔ میں اسے تقریباً ایک سال سے دیکھ رہا ہوں جب بھی وہ جھولی پیسے اکٹھے کرنے کے لیے صف سے گزارتے تو یہ اپنی جیب سے کچھ نہ کچھ نکال کر اس میں ڈال دیتا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ اس سے کبھی بات کروں ویسے ہی جیسے بچوں سے کرتے کہ کیا کرتے ہو؟ کونسی کلاس میں ۔۔ لیکن وہ نیک آدمی ہے آدمی نہیں، ہے تو سات یا آٹھ سال کا بچہ لیکن ہے نیک آدمی ۔ پہلی صفوں میں ہوتا اور میں نالائق آخری صف میں وہ بھی رکوع میں آکر شامل ہوتا۔
وہ تو جمعہ کی بھی تمام رکعت پڑھ کر جاتا ہوگا۔ میں فرض پڑھ کر نکل جاتا۔ ایک سال سے کوشش کر رہا تھا کہ بات ہوسکے لیکن وہ بڑا آدمی ہے ہمارے جیسوں سے بات نہیں کرتا ۔
خیر ہوں تو میں بھی قسمت کا دھنی ۔ پچھلے جمعہ اپنی بہن کو چھوڑ کر ذہن میں پتا نہیں کیا آیا اور سوچا آج جمعہ ٹائم سے پڑھنے چلتے۔ پہنچا تو وہ صاحب وہاں موجود تھے ۔ جمعہ ہوا پیسے اکٹھے ہوئے اس نے بھی پیسے دئیے ۔ میں نے اس سے پوچھا ہاتھ بڑھاتے ہوئے
کیسے ہو؟
اب اس کی آنکھوں کا مسئلہ ہے تو مجھے نہیں پتہ کہ وہ مجھ سے ہاتھ ملاتے وقت کہاں دیکھ رہا تھا ۔
مجھے لگا جیسے اسے میرے ساتھ ہاتھ ملانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں خیر میں نے پوچھا پڑھتے ہو کہتا جی
میں نے کلاس پوچھی تو اشارے سے بتایا کہ ٹو کلاس میں
میں نے کہا ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مانو گے
اب اسے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ میں نے کیا کہا۔ اس نے عجیب حیرانی سے دیکھا
میں نے کہا کتنے پیسے دئیے مسجد کو؟
کہتا پتا نہیں
میں سمجھا کہ شاید یہ جان کر کہہ رہا کہ امی یا ابو نے کہا ہوگا کہ کوئی کچھ پوچھے تو کہنا نہیں معلوم
خیر میں نے کہا آپ نے پیسے دئیے مسجد کو تو کتنے دیۓ ؟
کہنے لگا کہ دئیے تو ہیں لیکن نہیں پتا کتنے دیۓ ۔
کچھ دیر بعد بات کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ سچ میں نہیں جانتا کہ کتنے پیسے دئیے ۔ کچھ سپیشل بچوں کی طرح دکھتا تھا تو مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اسے سچ میں نہیں معلوم کہ اس نے کتنے پیسے دئیے۔
میں نے ویسے ہی مذاق میں کہا اگر قاری صاحب آپ نے جو پیسے مسجد کو دئیے وہ کھا گئے تو؟
اس کو جواب اس نے جھٹ سے ہاتھ سے مجھے روکتے ہوئے دیا کہ نہیں ۔۔۔کھا بھی جائیں تو کوئی نہیں ۔ میں نے کہا کہ پھر کیا فائدہ مسجد کو دینے کا جب قاری صاحب کھا جائیں گے ۔ کہنے لگا میرا کام تھا پیسے دے دینا اور میں نے مسجد کو دئیے۔ اب اگر قاری صاحب کھائیں گے تو یہ اللہ میاں خود پوچھ لیں گے ، میں نے تو دے دیئے ۔
مجھے وہ لاجواب کر چکا تھا۔ اس نے یہ کہتے ہوئے اللہ اکبر کہا اور باقی رکعت پڑھنے لگا اور میں سر جھکا کر بغیر باقی رکعت پڑھے گھر آگیا۔
وہ اس عمر میں واقعی ایک مفتی ہے جسے اس بات کا اندازہ شاید ہم سب سے زیادہ ہے کہ ہر چیز کا تعلق اللہ سے ہے ۔ کسی کی مدد کرتے وقت یہ فیصلہ نہیں کرنا کہ یہ اس سے کیا خریدے گا یا کہاں لگاۓ گا۔ ہمیشہ مانگنے والے کو نہیں دیکھنا بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ جو مانگ رہا ہے اسے بیجھا کس نے ؟
اللہ تعالیٰ نے ۔ تو میں نے جب بھی دینا یہ سمجھ کر دینا کہ میں نے اپنے اللہ کے حکم پر دیا جس نے لیا اس نے اس کا کیا کیا یہ میرا کام نہیں پوچھنا ۔ یہ جس کا کام ہے اس نے کرلینا۔ اس نے میری نیکی اسی وقت لکھ لی ہوگی جب میں نے دیکھا کہ مانگنے والا جا کر نشے کا ٹیکہ لگاۓ گا لیکن میں نے اسے دے دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیجھا، شاید وہ اس کا دل بھی بدل دے وہ تو ہر شے پر قدرت رکھتا ۔
ویسے بھی جب کوئی آپ سے ہاتھ پھیلا کر سوال کرتا ہے تو آپ سوچیں کہ یہ جو ہاتھ میرے سامنے اس نے پھیلایا، یہ شخص جو ہاتھ پھیلائے کھڑا میرے سامنے۔ اس کی اور میری جگہ بدل بھی سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو میرا ہاتھ بھی پھیل سکتا تھا اس مانگنے والے کے سامنے اور وہ مانگنے والا دینے والا بھی ہو سکتا تھا ۔ اس لیے دے دیں۔ اشفاق احمد کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے میں سے دینا ہے کونسا پلے سے دینا۔
خیر اس بچے کو یہ بات کسی نے سکھائی ہوگی کہ پیسے مولوی صاحب کو نہیں اللہ تعالیٰ کے گھر کو دیئے ہیں ۔ اب شاید اس کے ابا نے یا اماں نے اسے نہلا کر جیب میں بیس یا تیس روپے ڈالے ہوں اور ماتھا چوم کر کہا ہو کہ یہ مسجد کو دے دینا اور اگر کوئی کم عقل حنظلہ محمود ملے تو اسے بتانا کہ یہ میرا کام نہیں پوچھنا کہ قاری صاحب پیسے آپ کھا گئے کہ مسجد پر ہی خرچ ہوئے ۔
دوسری کہانیوں کے لیے یہاں “اردو کہانیاں” پر کلک کریں۔